کورونا وائرس اور عراق

اخبار وتقارير

2020-03-02

238 مشاہدہ

حرم مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام کے متولی علامہ شیخ عبدالمہدی کربلائی کی جانب سے بروز جمعہ خطبہ نماز جمعہ میں عالمی صحی بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا کہ عراق کے ہمسایہ ممالک میں جہاں کورونا وائرس پہنچ چکا ہے عراقی عوام کو چاہئیے کو انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہوئے ڈر و خوف کے مقام تک نہ پہنچیں۔

اس کے ساتھ ہی عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عراق کے گرم درجہ حرارت میں اس وائرس کی بقاء ممکن نہیں ہے جبکہ عراقی موسم کے بارے میں موسمیاتی اداروں نے پیشین گوئی کی ہے کہ تدریجیاً گرم ہورہا ہے ۔

جبکہ عالمی ادارہ صحت کے عراق میں نمائندے آدھم اسماعیل نے بتایا کہ عراقی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں انتہائی تیزی کے ساتھ چینی شہر سے پہلی فرصت میں ہی عراقی شہریوں کو نکال لیا اور عراق میں ہی 14 دن قرنطینہ میں رکھا اور نگہداشت کے بعد روانہ کردیا ۔

اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر علی احمد جو کہ وائرس سپیشلسٹ ہیں بتاتے ہیں کہ کورونا وائرس کی صفات عراقی آب و ہوا کے ساتھ متناسب نہیں ہیں اسی لئے یہاں زیادہ پھیلاؤ ممکن نہیں ہے ۔

نئے مواضیع

اکثر شائع

استبيان حول طبيعة العلاقة بين التفكير الاستراتيجي وجودة الخدمة في العتبة الحسينية المقدسة

شایدآپ کو بھی پسند آئے