آزادی کا افراتفری سے کوئی واسطہ نہیں

منبر الجمعة

2019-02-05

244 مشاہدہ

18 جمادی الاول 1440ھ بمطابق 25 جنوری 2019ء کو نماز جمعہ حرم مطہر حضرت امام حسین علیہ السلام میں حرم مطہر حضرت عباس علیہ السلام کے متولی علامہ سید احمد صافی کی امامت میں ادا کی گئی جس میں معاشرتی انحراف کے خلاف ثابت قدمی پر زور دیا ۔

خاندان کو اہمیت دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے یہ اہتمام چاہے والد کی طرف سے ہو یا والدہ کی طرف سے یا پھر بھائی بہنوں کی طرف سے خاندان کی حفاظت بہت ضروری ہے کیونکہ معاشرے کی تشکیل اور اس پر مثبت اثرات کے حوالے خاندان کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے اور اسی طرح سے مادی ضروریات کی طرح معنوی ضروریات کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور معنوی توشہ کی اہمیت مادی توشہ سے کم نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ صحیح تربیت ان امور میں سے ہے کہ جس کی شریعت نے بہت زیادہ تاکید کی ہے اور اسی طرح سے اصلاحی تحریکوں کے سرکردہ افراد نے بھی خاندان سے متمسک ہونے اور اس کی صحیح قواعد و ضوابط اور معین عادات کے مطابق تربیت کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی ہے۔
معاشرے میں موجود تین اہم ترین عملی مؤثرات دیگر معاملات پہ منتج ہوتے ہیں۔
1ـ خود خاندان کی حالت زار کہ جو تربیت کے حوالے سے اثر انداز ہوتی ہے۔
2ـ سکول کی صورت حال۔
3ـ عمومی معاشرے کا ماحول
یہ بات سب جانتے ہیں کہ ان تینوں میں سے ہر ایک مفصل تشریح کا محتاج ہے لیکن یہاں بنیادی مطالب کی طرف اشارہ کریں گے۔
جہاں تک خاندان کی بات ہے تو پہلے بیان کر چکے ہیں کہ حقیقی ذمہ داری خاندان کے سربراہ پہ عائد ہوتی ہے اس کا فرض ہے کہ وہ ایک اچھا خاندان بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔
جہاں تک سکول کا تعلق ہے تو اس سے پہلے اس بارے میں تفصیلی گفتگو نہیں کی ہم نے فقط معلم کی اہمیت اور نئی نسل کو سرگرم کرنے کے حوالے سے معلّم کے کردار کے بارے میں گفتگو کی تھی وہ معلّم چاہے پرائمری سکول میں بچوں کو پڑھاتا ہو یا مڈل اور ہائی سکول بلکہ معلّم کا اطلاق نرسری سکول سے لے کر یونیورسٹیوں میں تدریسی خدمات سرانجام دینے والے ہر فرد پر صادق آتا ہے اس میں کوئی شک نہیں نئی نسل کی تربیت کا کام خاندان اور معلّم کے درمیان مشترک ہوتا ہے اور دونوں مل کر ایک نئی نسل اور اچھا معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔
جہاں تک تیسرے مؤثر یعنی گھر اور سکول سے باہر عمومی ماحول کا تعلق ہے تو لڑکا یا لڑکی اپنے اوقات کا ایک بڑا حصہ وہاں گزارتے ہیں اور اس وقت ہمارا معاشرہ جس ماحول میں رنگا ہوا ہے وہ ایک خطرناک صورت حال ہے انسان جب اپنے معاشرے یا اپنے خاندان یا اپنی اولاد کو دیکھتا ہے اور ان سے ملتا ہے تو اسے چاہیے کہ حتی الامکان طریقہ سے وہ ان کے سامنے مشکلات اور ان کے حلول کو بیان کرے اور یہ ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ بعض حالات میں انسان کی ذمہ داری صرف گفتگو کرنا ہوتا ہے جب کہ بعض حالات میں اس کی ذمہ داری فیصلہ کرنا ہوتا ہے ایک ذمہ داری سب لوگوں کی ہوتی ہے جسے عمومی ذمہ داری یا معاشرتی ذمہ بھی کہہ سکتے ہیں یعنی لوگ آپس میں تبادلہ خیال اور اتفاق رائے کے ساتھ کچھ معین رویوں اور عادات کا تعین کریں اور ان کی خلاف ورزی کی کسی کو بھی اجازت نہ دیں یہ معاشرتی ذمہ داری ہر ایک پہ لاگو ہوتی ہے اور کسی کو بھی استثناء حاصل نہیں ہے عمومی اور معاشرتی ماحول سے مراد وہ افراتفری ہے کہ جس میں جی رہے ہیں دو ایسی چیزیں ہیں کہ جن کو ایک دوسرے کے ساتھ بہت زیادہ مختلط کر دیا گیا ہے حالانکہ دونوں کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے ایک چیز آزادی ہے جب کہ دوسری چیز افراتفری اور بغاوت ہے آزادی ایک نظام اور قانون کی محتاج ہوتی ہے اور یہی نظام اور قانون آزادی کی حفاظت کرتا ہے آزادی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان جو چاہے جیسا چاہے کرتا پھرے ایسا تو جنگل کے قانون میں بھی نہیں ہوتا آزادی یہ نہیں کہتی ہے کہ انسان کے مزاج میں جو چیز آئے وہ اسے کرتا پھرے اسے آزادی نہیں کہتے اور ایسی صورت حال پوری دنیا کے کسی نظام میں موجود نہیں ہے آزادی سے مراد یہ ہے کہ وہاں کچھ قواعد و ضوابط ہیں جو اس کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور یہ ساری چیزیں آزادی کے دائرہ میں رہتے ہوئے کی جاتی ہیں مثال کے طور پہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی گاڑی میرے گھر کے سامنے یا بالکل سڑک کے درمیان میں کھڑی کر دے ایسا کرنے کی صورت میں ہر ایک اس سے الجھے گا اور اسے منع کرے گا اور اسے یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کہے کہ میں اپنی آزادی کے مطابق جو چاہے کرتا پھروں اگر وہ ایسا کہتا ہے تو لوگ اس کا مذاق اڑائیں گے اور اسے کہیں گے کہ یہ آزادی نہیں ہے بلکہ یہ مفاد عامہ پر تجاوز ہے جب مفاد عامہ پر تجاوز ہونا شروع ہو جائے تو اس وقت افراتفری کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے اور افرا تفری میں نا کوئی نظام ہوتا ہے نا کوئی قانون اور نا ہی کسی چیز کا خیال رکھا جاتا ہے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم افراتفری کے ماحول میں جی رہے ہیں کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ آزادی ہے حالانکہ آزادی اور افراتفری کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔
اس کا ذمہ دار اپنے فرائض کو اچھی طرح سے جانتا ہے جس نے معاشرے کو اس حالت میں پہنچایا ہے وہ اپنی ذمہ داری سے واقف ہے جو چیز خوف زدہ کئے ہوئے ہے وہ محفوظ معاشرے کا فقدان اور اس کی حفاظت کی عدم موجودگی ہے کیونکہ ایک معاشرہ ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم معاشرے کی حفاظت کریں افراد کو اخلاقی پستی کی طرف پھسلنے سے روکے اور منحرف عادات کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں اگر معاشرہ اپنی حفاظت کھو دے تو ایسی مصیبت میں گرفتار ہو جائیں گے کہ جس سے صرف اللہ ہی نکال سکتا ہے اور معاشرے کی حفاظت ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔
مجھے سڑک پر چلنے کا حق حاصل ہے لیکن آپ کو مجھ پر تجاوز کرنے کا حق حاصل نہیں ہے آپ کو حق حاصل ہے کہ آپ بھی سڑک پر چلیں لیکن مجھے یہ حق حاصل نہیں ہے کہ میں آپ پر تجاوز کروں آپ کو ایک خاص جگہ پر رہنے کا حق حاصل ہے لیکن مجھے آپ پر تجاوز کرنے کا قطعا کوئی حق نہیں ہے باپ ہونے کے ناطے میں خاندان کا سربراہ ہوں اور مجھ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ میں اپنے بچوں کی اچھی تربیت کروں میں باپ ہونے کے ناطے قواعد و ضوابط کے تحت آزادی چاہتا ہوں لیکن افراتفری نہیں چاہتا اسی طرح سے میں اپنے آپ کا احترام کرتا ہوں اور دوسروں پر تجاوز نہیں کرتالہٰذا اس کے بدلے میں ضروری ہے کہ دوسرے لوگ بھی اپنے آپ کا احترام کریں اور مجھ پر کسی قسم کا تجاوز نہ کریں

یہ ایسا موضوع ہے کہ جو خطرے سے دوچار ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں کہ جس کے اپنی اقدار و تہذیب اور اپنے قواعد و ضوابط ہیں جب امور ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ ہو جائیں تو افراتفری کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم افراتفری کی مذمت کریں اور قواعد و ضوابط کے تحت اپنی آزادی سے متمسک رہیں اگر خاندان کا ایک فرد کسی پہ تجاوز کرتا ہے تو پورے خاندان کو دھمکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے پورا خاندان ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے پر مجبور ہو جاتا ہے اور پورا خاندان ہی خوف کا شکار ہوتا ہے کہ اگر اسے دیکھ لیا گیا تو وہ پکڑا جائے گا یا قتل کر دیاجائے گا اب اس قسم کے تمام امور افراتفری کہلاتے ہیں نا کہ آزادی۔ وہ بچہ جس پہ خاندان محنت کرتا ہے سکول کا استاد محنت کرتا ہے وہ عمومی معاشرے کے ماحول میں جا کر آزادی کے نام پر غلط کام سر انجام دیتا ہے اب سوال یہ ہے کہ اس افراتفری کا ذمہ دار کون ہے تو ہم میں سے ہر ایک کو بہادری کے ساتھ یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ میں ہی وہ شخص ہوں کہ جس نے اس افراتفری کے لیے وسعت فراہم کی حالانکہ آزادی کا افراتفری سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے

نئے مواضیع

اکثر شائع

شایدآپ کو بھی پسند آئے